اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: شب قدر،خلقت کا ایک پاکیزہ ترین ترانہ ہےکہ جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی جان میں پھونکا ہوا ہے۔ قدر،ہجرت کا بہترین موقع ہےکہ جو انسان کی تقدیر میں آیا ہے اوریہ مغفرت اوربخشش کا سنہرا موقع ہے۔ شبہائے قدرعطا ء کرنے اورعشق ومحبت کی بہترین محفل ہے۔ شب قدر انسان کے اپنے بارے میں غوروفکر کرنے کا بہترین موقع ہے۔
شب قدرایک نعمت اوررحمت ہےکہ جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا ہے۔اللہ تعالی نے اس رات میں بندگی کی راہ ہموارکی ہے اورانسان کے پاس ترقی اورکمال کے وسائل موجود ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بندوں کو قرب الہی کی منزل پرفائز ہونےکی مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالی ان راتوں کو اپنے گناہگار اورفراری بندوں کو توبہ کرنے اورطاغوت اور خواہشات نفسانی کی بندگی سےنجات دینےکی دعوت دیتا ہے۔
دیگرتمام مہینوں پر ماہ مبارک رمضان کی برتری اورفضیلت کی ایک علامت یہ ہے کہ اس بابرکت مہینے میں شب قدر واقع ہےکہ جو قرآنی حکم کے مطابق ہزارمہینوں سےبہتر ہے﴿لیلة القدرخیرمن الف شھر﴾۔ ایک شخص نے امام باقرعلیہ السلام سے پوچھا کہ شب قدر ہزارمہینوں سے بہترہے،اس کا کیا مطلب ہے؟ توامام علیہ السلام نےجواب میں فرمایا کہ اس رات میں ایک نیک عمل ان ہزارمہینوں کے نیک عمل سے بہترہےکہ جن میں شب قدرنہ ہوں۔
شبہائےقدرکی دعائیں طولانی ترین اوراعلیٰ مضامین پرمشتمل دعائیں ہیں۔ جیسے جوشن کبیر،ابوحمزہ ثمالی۔ اگرانہیں توجہ کے ساتھ پڑھا جائے تویہ انسان کی روحانی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں اورانسان کو دینی معارف کے سمندرسے آگاہ کرتی ہیں۔ مومن انسان شبہائے قدرکی دعائیں پڑھ کر ایک طرف تو وہ اللہ کی بے انتہا رحمت اوربخشش کی امید اوردوسری جانب قیامت کی سختیوں کو یاد کر خوف وہراس کا شکارہوجاتا ہے اورپھرندامت اورپشیمانی اس کے پورے وجود پرطاری ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169